سنن النسائي حدیث نمبر: 542
Sunan an-Nasa'i 542
کتاب #9: کتاب: اوقات نماز کے احکام و مسائل
23: بَابُ : الْكَرَاهِيَةِ فِي ذَلِكَ
باب: عشاء کو عتمہ کہنے کی کراہت۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قال: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَغْلِبَنَّكُمُ الْأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلَاتِكُمْ هَذِهِ، فَإِنَّهُمْ يُعْتِمُونَ عَلَى الْإِبِلِ وَإِنَّهَا الْعِشَاءُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے اس نماز کے نام کے سلسلہ میں اعراب تم پر غالب نہ آ جائیں ۱؎ وہ لوگ اپنی اونٹنیوں کو دوہنے کے لیے دیر کرتے ہیں ( اسی بنا پر دیر سے پڑھی جانے والی اس نماز کو عتمہ کہتے ہیں ) حالانکہ یہ عشاء ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 542]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی تم ان کی پیروی میں اسے عتمہ نہ کہنے لگو بلکہ اسے عشاء کہو۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/المساجد 39 (644)، سنن ابی داود/الأدب 86 (4984)، سنن ابن ماجہ/الصلاة 13 (704)، (تحفة الأشراف: 8582)، مسند احمد 2/10، 18، 49، 144 (صحیح)