سنن النسائي حدیث نمبر: 4960
Sunan an-Nasa'i 4960
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
11: بَابُ : الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ يُسْرَقُ
باب: درخت پر لٹکے ہوئے پھلوں کی چوری کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي كَمْ تُقْطَعُ الْيَدُ؟ قَالَ: " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ فِي ثَمَرٍ مُعَلَّقٍ، فَإِذَا ضَمَّهُ الْجَرِينُ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ، وَلَا تُقْطَعُ فِي حَرِيسَةِ الْجَبَلِ، فَإِذَا آوَى الْمُرَاحَ قُطِعَتْ فِي ثَمَنِ الْمِجَنِّ".
عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : ہاتھ کتنے میں کاٹا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” درخت پر لگے پھل میں نہیں کاٹا جائے گا ، لیکن جب وہ کھلیان میں پہنچا دیا جائے تو ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے گا ، اور نہ پہاڑ پر چرنے والے جانوروں میں کاٹا جائے گا البتہ جب وہ اپنے رہنے کی جگہ میں آ جائیں تو ڈھال کی قیمت میں کاٹا جائے گا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4960]
💡 وضاحت:
۱؎: درخت پر لگے پھلوں اور میدان میں چرتے جانوروں کی چوری پر ہاتھ اس لیے نہیں کاٹا جائے گا کہ یہ سب ”حرز“ (محفوظ مقام) میں نہیں ہوتے، کھلیان اور باڑہ حرز (محفوظ مقام) ہوتے ہیں، یہاں سے چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/اللقطة 1 (1712)، (تحفة الأشراف: 8755) مسند احمد (2/186) (حسن)