سنن النسائي حدیث نمبر: 4915
Sunan an-Nasa'i 4915
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
8: بَابُ : الْقَدْرِ الَّذِي إِذَا سَرَقَهُ السَّارِقُ قُطِعَتْ يَدُهُ
باب: مال کی وہ مقدار جس کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا؟
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَطَعَ فِي مِجَنٍّ"، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: هَذَا خَطَأٌ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال ( چرانے ) پر ہاتھ کاٹا ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : یہ غلط ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4915]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اس سند سے اس حدیث کی مرفوع روایت خطا ہے، اور صحیح موقوف ہے، جیسا کہ حدیث رقم (۴۹۱۶) سے واضح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 1388) (صحیح) (امام نسائی کے نزدیک انس سے مروی یہ مرفوع حدیث غلط ہے، اور صحیح اس سند سے ابوبکر رضی الله عنہ کی موقوف روایت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے، لیکن اصل حدیث ابن عمر سے مروی ہے، جو اوپر گزری اس لیے یہ حدیث بھی صحیح ہے، گرچہ انس رضی الله عنہ کی روایت پر امام نسائی کا کلام ہے)