سنن النسائي حدیث نمبر: 4908
Sunan an-Nasa'i 4908
کتاب #51: کتاب: چور کا ہاتھ کاٹنے سے متعلق احکام و مسائل
7: بَابُ : التَّرْغِيبِ فِي إِقَامَةِ الْحَدّ
باب: حد نافذ کرنے کی ترغیب کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ عِيسَى بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا زُرْعَةَ بْنَ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَدٌّ يُعْمَلُ فِي الْأَرْضِ خَيْرٌ لِأَهْلِ الْأَرْضِ مِنْ أَنْ يُمْطَرُوا ثَلَاثِينَ صَبَاحًا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک حد کا نافذ ہونا اہل زمین کے لیے تیس دن بارش ہونے سے بہتر ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4908]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی بارش عام طور پر رزق میں وسعت اور خوشحالی کا سبب ہوتی ہے، مگر حد کا نفاذ اس بابت زیادہ فائدہ مند ہے اس لیے کہ معاشرہ میں امن و امان کے قیام میں بہت ہی موثر چیز ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن بلفظ أربعين
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابن ماجه (2538) جرير بن يزيد: ضعيف،،كما فى التقريب (917). وللحديث شواهد ضعيف،ة عند ابن حبان (1507 موارد) وغيره. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 358
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابن ماجہ/الحدود 3 (2538)، (تحفة الأشراف: 14888) حم2/362، 302، 302 (حسن) لفظ ’’أربعین‘‘ کے ساتھ یہ حدیث حسن ہے، ابن ماجہ میں ’’أربعین صباحا‘‘ کا لفظ آیا ہے، اور اگلی حدیث میں اربعین لیلة کا لفظ آ رہا ہے)