سنن النسائي حدیث نمبر: 490
Sunan an-Nasa'i 490
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
22: بَابُ : فَرْضِ الْقِبْلَةِ
باب: قبلہ کی فرضیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قال: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ" فَصَلَّى نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ إِنَّهُ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ". فَمَرَّ رَجُلٌ قَدْ كَانَ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ وُجِّهَ إِلَى الْكَعْبَةِ، فَانْحَرَفُوا إِلَى الْكَعْبَةِ.
براء بن عازب رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ آئے تو آپ نے سولہ مہینہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ، تو ایک آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ چکا تھا ، انصار کے کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا تو اس نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کی طرف پھیر دئیے گئے ہیں ، ( لوگوں نے یہ سنا ) تو وہ بھی قبلہ کی طرف پھر گئے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 490]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے خبر واحد جو ظنی ہے سے قرآن سے ثابت حکم قطعی کا منسوخ ہونا ثابت ہو رہا ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نسخ کے علم سے پہلے منسوخ کے مطابق جو عمل کیا گیا ہو وہ صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1835)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 30 (40)، الصلاة 31 (399)، تفسیر البقرة 12 (4486)، أخبار الآحاد 1 (7252)، صحیح مسلم/المساجد 2 (525)، سنن الترمذی/الصلاة 255 (340)، تفسیر البقرة (2962)، سنن ابن ماجہ/إقامة 56 (1010)، مسند احمد 4/283، ویأتي عند المؤلف في القبلة 1 (برقم: 743) (صحیح)