سنن النسائي حدیث نمبر: 486
Sunan an-Nasa'i 486
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
21: بَابُ : فَضْلِ صَلاَةِ الْجَمَاعَةِ
باب: نماز باجماعت کی فضیلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُونَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوا فِيكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي؟ فَيَقُولُونَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارے پاس رات اور دن کے فرشتے ۱؎ باری باری آتے جاتے ہیں ، اور فجر اور عصر کی نماز میں اکٹھا ہو جاتے ہیں ، پھر جن فرشتوں نے تمہارے پاس رات گزاری تھی وہ اوپر چڑھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان سے بہتر جانتا ہے ، ۲؎ ہمارے بندوں کو تم کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو ؟ وہ عرض کرتے ہیں : ” ہم نے انہیں نماز کی حالت میں چھوڑا ہے ، اور ہم ان کے پاس آئے تھے تو بھی وہ نماز ہی میں مصروف تھے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 486]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو لوگوں کے اعمال لکھتے ہیں، اور جنہیں کراماً کاتبین کہا جاتا ہے۔ ۲؎: اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے، وہ فرشتوں سے اپنے بندوں کی بابت اس لیے پوچھتا ہے تاکہ فرشتوں پر بھی اہل ایمان کا فضل وشرف واضح ہو جائے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/مواقیت 16 (555)، بدء الخلق 6 (3223)، التوحید 23 (7429)، 32 (7486)، صحیح مسلم/المساجد 37 (632)، موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (82)، (تحفة الأشراف: 13809)، مسند احمد 2/257، 312، 486 (صحیح)