سنن النسائي حدیث نمبر: 453
Sunan an-Nasa'i 453
کتاب #8: کتاب: نماز کے احکام و مسائل
2: بَابُ : أَيْنَ فُرِضَتِ الصَّلاَةُ
باب: نماز کہاں فرض ہوئی؟
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قال: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ الْبُنَانِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ" أَنَّ الصَّلَوَاتِ فُرِضَتْ بِمَكَّةَ، وَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَتَيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَا بِهِ إِلَى زَمْزَمَ فَشَقَّا بَطْنَهُ وَأَخْرَجَا حَشْوَهُ فِي طَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فَغَسَلَاهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ كَبَسَا جَوْفَهُ حِكْمَةً وَعِلْمًا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ پنج وقتہ نمازیں مکہ میں فرض کی گئیں ، دو فرشتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، وہ دونوں آپ کو زمزم کے پاس لے گئے ، اور آپ کا پیٹ چاک کیا ، اور اندر کی چیزیں نکال کر سونے کے ایک طشت میں رکھیں ، اور انہیں آب زمزم سے دھویا ، پھر آپ کا پیٹ علم و حکمت سے بھر کر بند کر دیا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 453]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف 454) (صحیح)