سنن النسائي حدیث نمبر: 443
Sunan an-Nasa'i 443
کتاب #7: کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل
29: بَابُ : الأَمْرِ بِالْوُضُوءِ مِنَ النَّوْمِ
باب: نیند کی وجہ سے وضو کا حکم۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ فَجَعَلَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَصَلَّى ثُمَّ اضْطَجَعَ وَرَقَدَ، فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ مُخْتَصَرٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک رات نماز پڑھی تو میں ( جا کر ) آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی داہنی طرف کر لیا ، اور نماز ادا کی ، پھر لیٹے اور سو گئے اتنے میں مؤذن آپ کے پاس آیا ( اس نے آپ کو جگایا ) تو آپ نے ( جا کر ) نماز پڑھی ، اور وضو نہیں کیا روایت مختصر ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 443]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوضوء 5 (138)، 36 (183)، والأذان 58 (698)، 77 (726)، 161 (859)، صحیح مسلم/المسافرین 26 (763)، سنن الترمذی/الصلاة57(232)، سنن ابن ماجہ/الطہارة48(423)، مسند احمد 1/220، 234، 244، 283، 230 ویأتي عند المؤلف برقم: 678، ویأتی عند المؤلف برقم: 807، (تحفة الأشراف 6356)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 316 (1364) (صحیح)