سنن النسائي حدیث نمبر: 439
Sunan an-Nasa'i 439
کتاب #7: کتاب: غسل اور تیمم کے احکام و مسائل
--: بَابُ : الاخْتِلافُ عَلَى بُكَيْرٍ
باب: بکیر سے روایت میں ان کے تلامذہ کے اختلاف کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، وَذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قال: قال عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَرْسَلْتُ الْمِقْدَادَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنِ الْمَذْيِ، فَقَالَ: " تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: مَخْرَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ شَيْئًا.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مقداد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا کہ وہ ( جا کر ) آپ سے مذی کے متعلق پوچھیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وضو کر لو ، اور اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑک لو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 439]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر رقم: 436 (صحیح بما قبلہ وبما بعدہ) (مخرمہ کا اپنے باپ ’’بکیر‘‘ سے سماع نہیں ہے)