سنن النسائي حدیث نمبر: 4356
Sunan an-Nasa'i 4356
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
35: بَابُ : مَيْتَةِ الْبَحْرِ
باب: مردہ سمندری جانوروں کی حلت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آدَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: بَعَثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ ثَلَاثُ مِائَةٍ نَحْمِلُ زَادَنَا عَلَى رِقَابِنَا، فَفَنِيَ زَادُنَا حَتَّى كَانَ يَكُونُ لِلرَّجُلِ مِنَّا كُلَّ يَوْمٍ تَمْرَةٌ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، وَأَيْنَ تَقَعُ التَّمْرَةُ مِنَ الرَّجُلِ؟، قَالَ: " لَقَدْ وَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَقَدْنَاهَا، فَأَتَيْنَا الْبَحْرَ، فَإِذَا بِحُوتٍ قَذَفَهُ الْبَحْرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہمیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سریہ فوجی ٹولی میں ) بھیجا ، ہم تین سو تھے ، ہم اپنا زاد سفر اپنی گردنوں پر لیے ہوئے تھے ، ہمارا زاد سفر ختم ہو گیا ، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص کے حصے میں روزانہ ایک کھجور آتی تھی ، عرض کیا گیا : ابوعبداللہ ! اتنی سی کھجور آدمی کا کیا بھلا کرے گی ؟ انہوں نے کہا : ہمیں اس کا فائدہ تب معلوم ہوا جب ہم نے اسے بھی ختم کر دیا ، پھر ہم سمندر پر گئے ، دیکھا کہ ایک مچھلی ہے جسے سمندر نے باہر پھینک دیا ہے ، تو ہم نے اسے اٹھارہ دن تک کھایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4356]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الشرکة 1 (2483)، الجہاد 124 (2983)، المغازي 65 (3463)، الصید 12 (5494)، سنن الترمذی/القیامة 34 (2475)، سنن ابن ماجہ/الزہد12(4159)، (تحفة الأشراف: 3125)، موطا امام مالک/صفة النبي ﷺ10(24) (صحیح)