سنن النسائي حدیث نمبر: 4339
Sunan an-Nasa'i 4339
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
31: بَابُ : تَحْرِيمِ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الأَهْلِيَّةِ
باب: پالتو گدھوں کا گوشت کھانے کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ أَبِيهِمَا، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ نِكَاحِ الْمُتْعَةِ، وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ يَوْمَ خَيْبَرَ".
علی رضی اللہ عنہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن نکاح متعہ ۱؎ سے اور گھریلو گدھوں کے گوشت سے منع فرمایا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4339]
💡 وضاحت:
۱؎: نکاح متعہ یعنی وقتی نکاح جو جاہلیت میں کچھ پیسوں کے بدلے کیا جاتا تھا، شروع اسلام میں یہ حلال تھا، پھر جنگ خیبر کے دن ہمیشہ کے لیے حرام کر دیا گیا۔ اس حدیث میں خاص توجہ کی چیز یہ ہے کہ شیعہ متعہ کو اب بھی حلال مانتے ہیں جب کہ آخری ممانعت کی حدیث علی رضی اللہ عنہ ہی سے ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3367 (صحیح)