سنن النسائي حدیث نمبر: 4270
Sunan an-Nasa'i 4270
کتاب #47: کتاب: شکار اور ذبیحہ کے احکام و مسائل
3: بَابُ : صَيْدِ الْكَلْبِ الْمُعَلَّمِ
باب: سدھائے ہوئے کتے کے شکار کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أُرْسِلُ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ فَيَأْخُذُ؟، فَقَالَ: " إِذَا أَرْسَلْتَ الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ فَأَخَذَ فَكُلْ"، قُلْتُ: وَإِنْ قَتَلَ، قَالَ: " وَإِنْ قَتَلَ"، قُلْتُ: أَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ، قَالَ: " إِذَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَكُلْ، وَإِذَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَلَا تَأْكُلْ".
عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : میں ( شکار پر ) سدھایا ہوا کتا چھوڑتا ہوں اور وہ جانور پکڑ لیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” جب تم سدھایا کتا چھوڑو اور اس پر اللہ کا نام لے لو پھر وہ شکار پکڑے تو تم اسے کھاؤ میں نے عرض کیا : اگر وہ اسے مار ڈالے ؟ “ تو آپ نے فرمایا : ” اگرچہ وہ اسے مار ڈالے “ ۔ میں نے عرض کیا : میں معراض پھینکتا ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر نوک لگے تو کھاؤ اور اگر آڑا لگے تو نہ کھاؤ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4270]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الصید 3 (5477)، التوحید 13 (7397)، صحیح مسلم/الصید 1 (1929)، سنن ابی داود/الصید 2 (2827)، سنن الترمذی/الصید 1 (1465)، سنن ابن ماجہ/الصید 6 (3215)، (تحفة الأشراف: 9878)، مسند احمد (4/256، 258، 377، 380) (صحیح)