📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل (كتاب الفرع والعتيرة) 🏷️ باب: باب: مردار کی چربی سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4261 Sunan an-Nasa'i 4261
کتاب #46: کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
8: بَابُ : النَّهْىِ عَنْ الاِنْتِفَاعِ، بِشُحُومِ الْمَيْتَةِ
باب: مردار کی چربی سے فائدہ اٹھانے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ: بَيْعَ الْخَمْرِ، وَالْمَيْتَةِ، وَالْخِنْزِيرِ، وَالْأَصْنَامِ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُطْلَى بِهَا السُّفُنُ وَيُدَّهَنُ بِهَا الْجُلُودُ وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ؟، فَقَالَ: " لَا , هُوَ حَرَامٌ" , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: " قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِم الشُّحُومَ جَمَّلُوهُ، ثُمَّ بَاعُوهُ فَأَكَلُوا ثَمَنَهُ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فتح مکہ کے سال مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ، اللہ اور اس کے رسول نے شراب ، مردار ، سور اور بتوں کی خرید و فروخت حرام کر دی ہے ۔ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! مردار کی چربی کے سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ اسے کشتیوں پر لگایا جاتا اور کھالوں پر ملا جاتا ہے اور لوگ اس سے چراغ جلاتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” نہیں ، وہ حرام ہے “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ یہودیوں کو تباہ کرے ، اللہ تعالیٰ نے جب ان پر چربی حرام کر دی تو انہوں نے اسے گلایا ، پھر بیچا ، پھر اس کی قیمت کھائی “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4261]
💡 وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے حیلہ کی ممانعت ثابت ہوتی ہے، یہ ایسی ہی ہے جیسے یہودیوں نے سنیچر کے دن شکار کی ممانعت پر حیلہ کیا تھا کہ جمعہ کے دن پانی میں جال پھیلا دیتے تاکہ مچھلیاں پھنس جائیں اور سنیچر کی مدت ختم ہونے کے بعد آسانی سے شکار ہاتھ میں آ جائے، کسی بھی حرام چیز سے کسی طرح بھی فائدہ اٹھانا حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/البیوع 112 (2236)، المغازي 51 (4296)، تفسیرسورة الأنعام 6 (4633)، صحیح مسلم/المساقاة 13 (البیوع34) (1581)، سنن ابی داود/البیوع 66 (3486)، سنن الترمذی/البیوع 61 (1297)، سنن ابن ماجہ/التجارات 11 (2167)، (تحفة الأشراف: 2494)، مسند احمد (3/324، 326، 370)، ویأتي عند المؤلف في البیوع 93 (برقم: 4673) (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4261
4259 4260 4261 4262 4263
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ