سنن النسائي حدیث نمبر: 4230
Sunan an-Nasa'i 4230
کتاب #46: کتاب: فرع و عتیرہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ :
باب:
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِيهِ، وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , الْفَرَعَ، قَالَ: " حَقٌّ، فَإِنْ تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكُونَ بَكْرًا فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْصَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ فَتُكْفِئَ إِنَاءَكَ , وَتُولِهُ نَاقَتَكَ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , فَالْعَتِيرَةُ. قَالَ: " الْعَتِيرَةُ حَقٌّ". قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ: هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ أَحَدُهُمْ أَبُو بَكْرٍ، وَبِشْرٌ، وَشَرِيكٌ، وَآخَرُ.
محمد بن عبداللہ بن عمرو اور زید بن اسلم سے روایت ہے لوگوں ( صحابہ ) نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فرع کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” حق ہے ، البتہ اگر تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے اور تم اسے اللہ کی راہ میں دو ، یا اسے کسی مسکین ، بیوہ کو دے دو تو یہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ( بچہ کی شکل میں ) ذبح کرو اور ( اس کے کاٹے جانے کی وجہ سے ) اس کا گوشت چمڑے سے لگ جائے “ ۔ ( یعنی دبلی ہو جائے گی ) پھر تم اپنا برتن اوندھا کر کے رکھو گے ( کہ وہ دودھ دینے کے لائق ہی نہ ہو گی ) اور تمہاری اونٹنی تکلیف میں رہے گی “ ۔ لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اور عتیرہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” عتیرہ بھی حق ہے “ ۱؎ ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : ابوعلی حنفی چار بھائی ہیں : ابوبکر ، بشر ، شریک اور ایک اور ہیں ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4230]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی باطل اور حرام نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني:
حسن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 8701)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأضحایا21(2842)، مسند احمد 2/182 -183 (حسن)