سنن النسائي حدیث نمبر: 4192
Sunan an-Nasa'i 4192
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
24: بَابُ : الْبَيْعَةِ فِيمَا يَسْتَطِيعُ الإِنْسَانُ
باب: طاقت بھر حاکم کی سمع و طاعت (سننے اور حکم بجا لانے) کی بیعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ. ح وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كُنَّا نُبَايِعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، ثُمَّ يَقُولُ: " فِيمَا اسْتَطَعْتَ". وَقَالَ عَلِيٌّ: " فِيمَا اسْتَطَعْتُمْ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمع و طاعت ( سننے اور حکم بجا لانے ) پر بیعت کرتے تھے ، پھر آپ فرماتے تھے : ” جتنی تمہاری طاقت ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4192]
💡 وضاحت:
۱؎: دین اسلام کی طبیعت ہی اللہ تعالیٰ نے یہی رکھی ہے کہ بن دوں پر ان کی طبعی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے۔ قرآن میں ارشاد ربانی ہے: «لا يكلف الله نفسا إلا وسعها» ”اللہ تعالیٰ نے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالا ہے“ (البقرة: 286)۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الإمارة 22 (1867)، سنن الترمذی/السیر 34 (1593)، (تحفة الأشراف: 7127، 7174)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأحکام 43 (7202)، موطا امام مالک/البیعة 1(1)، مسند احمد (2/62، 81، 101، 139) (صحیح)