📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: بیعت کے احکام و مسائل (كتاب البيعة) 🏷️ باب: باب: جہاد پر بیعت کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 4166 Sunan an-Nasa'i 4166
کتاب #44: کتاب: بیعت کے احکام و مسائل
9: بَابُ : الْبَيْعَةِ عَلَى الْجِهَادِ
باب: جہاد پر بیعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ , وَحَوْلَهُ عِصَابَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ: " تُبَايِعُونِي عَلَى أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا , وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ، وَلَا تَأْتُوا بِبُهْتَانٍ تَفْتَرُونَهُ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ، وَلَا تَعْصُونِي فِي مَعْرُوفٍ، فَمَنْ وَفَّى فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَعُوقِبَ بِهِ فَهُوَ لَهُ كَفَّارَةٌ، وَمَنْ أَصَابَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا ثُمَّ سَتَرَهُ اللَّهُ، فَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ إِنْ شَاءَ عَفَا عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ عَاقَبَهُ". خَالَفَهُ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ.
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( اور اس وقت آپ کے اردگرد صحابہ کی ایک جماعت تھی ) : ” تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرو گے ، چوری نہیں کرو گے ، زنا نہیں کرو گے ، اپنے بچوں کو قتل نہیں کرو گے ، اور اپنی طرف سے گھڑ کر کسی پر بہتان نہیں لگاؤ گے ، کسی معروف ( بھلی بات ) میں میری نافرمانی نہیں کرو گے ۔ ( بیعت کے بعد ) جو ان باتوں کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے ، تم میں سے کسی نے کوئی غلطی کی ۱؎ اور اسے اس کی سزا مل گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ہو گی اور جس نے غلطی کی اور اللہ نے اسے چھپائے رکھا تو اس کا معاملہ اللہ کے پاس ہو گا ، اگر وہ چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو سزا دے ۔ احمد بن سعید نے اسے کچھ اختلاف کے ساتھ روایت کیا ہے ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4166]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی شرک کے علاوہ، کیونکہ توبہ کے سوا شرک کا کوئی کفارہ نہیں ہے۔ ۲؎: یہ اختلاف اس طرح ہے کہ احمد بن سعید کی روایت (جو آگے آ رہی ہے) میں صالح بن کیسان اور زہری کے درمیان حارث بن فضیل کا اضافہ ہے، اور زہری اور عبادہ بن صامت کے درمیان ابوادریس خولانی کا اضافہ نہیں ہے، اس اختلاف سے اصل حدیث کی صحت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/الإیمان 11 (18)، مناقب الأنصار 43 (3892)، المغازي 12 (3999)، تفسیرالممتحنة 3 (4894)، الحدود 8 (6784)، 14 (6801)، الدیات 2 (6873)، الأحکام 49 (7213)، التوحید31 (7468)، صحیح مسلم/الحدود 10 (1709)، سنن الترمذی/الحدود 12 (1439)، (تحفة الأشراف: 5094)، مسند احمد (5/314)، سنن الدارمی/السیر 17 (2497)، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1483، و4215، و5005 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #4166
4164 4165 4166 4167 4168

📖 اسی باب کی مزید احادیث (Related Hadiths)

#4165 أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي...
یعلیٰ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس فتح مکہ کے د...
#4167 أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِح...
عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم مجھ سے ا...
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ