سنن النسائي حدیث نمبر: 4093
Sunan an-Nasa'i 4093
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
22: بَابُ : مَنْ قُتِلَ دُونَ مَالِهِ
باب: جو اپنا مال بچانے میں مارا جائے۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ , فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ". هَذَا خَطَأٌ، وَالصَّوَابُ حَدِيثُ سُعَيْرِ بْنِ الْخِمْسِ.
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ناحق جس کا مال چھینا جائے اور وہ لڑے پھر مارا جائے وہ شہید ہے “ ۔ ( امام نسائی کہتے ہیں : ) یہ حدیث غلط ہے ، صحیح سعیر بن خمس کی حدیث ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4093]
💡 وضاحت:
۱؎: بعض نسخوں کے مطابق خطا سعیر بن خمس کی حدیث میں ہے نہ کہ اس حدیث میں، اور خطا سے مراد سند میں خطا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح لغيره
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/السنة 23 (4771)، سنن الترمذی/الدیات 22 (1419، 1420)، (تحفة الأشراف: 8603)، مسند احمد (2/193، 194، 217) (صحیح)