سنن النسائي حدیث نمبر: 4086
Sunan an-Nasa'i 4086
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
21: بَابُ : مَا يَفْعَلُ مَنْ تُعُرِّضَ لِمَالِهِ
باب: کسی کا مال لوٹا جائے تو وہ کیا کرے۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ فِي حَدِيثِهِ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ قَابُوسَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح , وأَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ مُخَارِقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: وَسَمِعْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَأْتِينِي فَيُرِيدُ مَالِي. قَالَ: " ذَكِّرْهُ بِاللَّهِ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَذَّكَّرْ. قَالَ: " فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَنْ حَوْلَكَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَوْلِي أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ. قَالَ: " فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ بِالسُّلْطَانِ". قَالَ: فَإِنْ نَأَى السُّلْطَانُ عَنِّي. قَالَ: " قَاتِلْ دُونَ مَالِكَ حَتَّى تَكُونَ مِنْ شُهَدَاءِ الْآخِرَةِ أَوْ تَمْنَعَ مَالَكَ".
مخارق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے آ کر کہا : میرے پاس ایک شخص آتا ہے اور میرا مال چھینتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” تو تم اسے اللہ کی یاد دلاؤ “ ، اس نے کہا : اگر وہ اللہ کو یاد نہ کرے ، آپ نے فرمایا : ” تو تم اس کے خلاف اپنے اردگرد کے مسلمانوں سے مدد طلب کرو “ ۔ اس نے کہا : اگر میرے اردگرد کوئی مسلمان نہ ہو تو ؟ آپ نے فرمایا : ” حاکم سے مدد طلب کرو ۔ اس نے کہا : اگر حاکم بھی مجھ سے دور ہو ؟ آپ نے فرمایا : اپنے مال کے لیے لڑو ، یہاں تک کہ اگر تم مارے گئے تو آخرت کے شہداء میں سے ہو گے ۱؎ یا اپنے مال کو بچا لو گے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4086]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی: اجر و ثواب کے لحاظ سے ایسا آدمی شہداء میں سے ہو گا لیکن عام مردوں کی طرح اس کو غسل دیا جائے گا اور تجہیز و تدفین کی جائے گی۔
قال الشيخ الألباني:
حسن صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11242)، مسند احمد (5/294-295) (حسن صحیح)