سنن النسائي حدیث نمبر: 4010
Sunan an-Nasa'i 4010
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
2: بَابُ : تَعْظِيمِ الدَّمِ
باب: ناحق خون کرنے کی سنگینی کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَرْقَاءُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِالْقَاتِلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نَاصِيَتُهُ وَرَأْسُهُ فِي يَدِهِ , وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا يَقُولُ: يَا رَبِّ , قَتَلَنِي. حَتَّى يُدْنِيَهُ مِنَ الْعَرْشِ"، قَالَ: فَذَكَرُوا لِابْنِ عَبَّاسٍ التَّوْبَةَ , فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا سورة النساء آية 93 قَالَ: مَا نُسِخَتْ مُنْذُ نَزَلَتْ , وَأَنَّى لَهُ التَّوْبَةُ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن مقتول قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا ، اس کی پیشانی اور اس کا سر اس ( مقتول ) کے ہاتھ میں ہوں گے اور اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے رب ! اس نے مجھے قتل کیا ، یہاں تک کہ وہ اسے لے کر عرش کے قریب جائے گا “ ۔ راوی ( عمرو ) کہتے ہیں : لوگوں نے ابن عباس سے توبہ کا ذکر کیا تو انہوں نے یہ آیت : «ومن يقتل مؤمنا متعمدا» ” جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا “ تلاوت کی اور کہا : جب سے یہ نازل ہوئی منسوخ نہیں ہوئی پھر اس کے لیے توبہ کہاں ہے ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 4010]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/تفسیر سورة النساء (3029)، (تحفة الأشراف: 6303) (صحیح)