سنن النسائي حدیث نمبر: 3984
Sunan an-Nasa'i 3984
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
1: بَابُ : تَحْرِيمِ الدَّمِ
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَجَاءَ رَجُلٌ فَسَارَّهُ , فَقَالَ: " اقْتُلُوهُ" , ثُمَّ قَالَ: " أَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ". قَالَ: نَعَمْ، وَلَكِنَّمَا يَقُولُهَا تَعَوُّذًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقْتُلُوهُ , فَإِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَإِذَا قَالُوهَا , عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ , وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا , وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ".
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص نے آ کر آپ سے رازدارانہ گفتگو کی ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے قتل کر دو “ ، پھر آپ نے فرمایا : ” کیا وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ؟ “ کہا : جی ہاں ، مگر اپنے کو بچانے کے لیے وہ ایسا کہتا ہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے قتل نہ کرو ۔ اس لیے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں : جب وہ اسے کہہ لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال کو محفوظ کر لیا ، مگر اس کے ( جان و مال کے ) حق کے بدلے ، اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ پر ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3984]
💡 وضاحت:
: مزی نے تحفۃ الأشراف (۹/۲۱) میں اس حدیث کے ذکر کے بعد نسائی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ”اسود“ کی روایت صحیح نہیں ہے۔ (جنہوں نے یہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی مسند سے روایت کیا ہے، صحیح اگلی پانچ روایتیں ہیں، جن میں یہ حدیث اوس رضی اللہ عنہ کی مسند سے روایت کی گئی ہے)
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11623) (صحیح)