سنن النسائي حدیث نمبر: 3976
Sunan an-Nasa'i 3976
کتاب #42: کتاب: قتل و خون ریزی کے احکام و مسائل
1: بَابُ : تَحْرِيمِ الدَّمِ
باب: خون کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , فَإِذَا قَالُوهَا فَقَدْ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إِلَّا بِحَقِّهَا وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ"، فَلَمَّا كَانَتِ الرِّدَّةُ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَتُقَاتِلُهُمْ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أُفَرِّقُ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ , وَلَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا , فَقَاتَلْنَا مَعَهُ فَرَأَيْنَا ذَلِكَ رُشْدًا. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: سُفْيَانُ فِي الزُّهْرِيِّ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ , وَهُوَ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ ” لا الٰہ الا اللہ “ نہ کہیں ، جب وہ لوگ یہ کہنے لگیں تو اب انہوں نے اپنے خون ، اپنے مال کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر ( جان و مال کے ) حق کے بدلے ، اور ان کا حساب اللہ پر ہے ، پھر جب «ردت» کا واقعہ ہوا ( مرتد ہونے والے مرتد ہو گئے ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ ان سے جنگ کریں گے حالانکہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا اور ایسا فرماتے سنا ہے ؟ تو وہ بولے : اللہ کی قسم ! میں نماز اور زکاۃ میں تفریق نہیں کروں گا ، اور میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو ان کے درمیان تفریق کرے گا ، پھر ہم ان کے ساتھ لڑے اور اسی چیز کو ہم نے ٹھیک اور درست پایا ۔ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں : زہری سے روایت کرنے والے سفیان قوی نہیں ہیں اور ان سے مراد سفیان بن حسین ہیں ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3976]
💡 وضاحت:
۱؎: لیکن متابعات سے تقویت پا کر یہ روایت بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 2445 (صحیح)