سنن النسائي حدیث نمبر: 3935
Sunan an-Nasa'i 3935
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ جَدِّي، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ , حَتَّى بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ كَانَ يَنْهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَلَقِيَهُ عَبْدُ اللَّهِ , فَقَالَ: يَا ابْنَ خَدِيجٍ مَاذَا تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كِرَاءِ الْأَرْضِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ لِعَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ عَمَّيَّ وَكَانَا قَدْ شَهِدَا بَدْرًا , يُحَدِّثَانِ أَهْلَ الدَّارِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ"، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ كُنْتُ أَعْلَمُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْأَرْضَ تُكْرَى، ثُمَّ خَشِيَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْدَثَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا لَمْ يَكُنْ يَعْلَمُهُ، فَتَرَكَ كِرَاءَ الْأَرْضِ. أَرْسَلَهُ شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ.
سالم بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی زمین کرائے پر اٹھاتے تھے ، یہاں تک کہ انہیں معلوم ہوا کہ رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکتے ہیں ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے ملاقات کی اور کہا : ابن خدیج ! زمین کو کرائے پر اٹھانے کے بارے میں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا نقل کرتے ہیں ؟ تو رافع رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : میں نے اپنے دو چچاؤں کو ( کہتے ) سنا ( ان دونوں نے بدر میں شرکت کی تھی ) وہ دونوں گھر والوں سے بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر اٹھانے سے روکا ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جانتا تھا کہ زمین کرائے پر اٹھائی جا سکتی ہے ، پھر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خوف ہوا کہ کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی ایسی نئی بات کہی ہو گی جسے وہ نہ جان سکے ہوں ، چنانچہ انہوں نے زمین کو کرائے پر اٹھانا چھوڑ دیا ۔ اسے شعیب بن ابی حمزہ نے مرسلاً روایت کیا ہے ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3935]
💡 وضاحت:
۱؎: شعیب نے اپنی روایت میں یوں کہا ہے: «عن الزھری قال بلغنا أن رافع بن خدیج» جب کہ آگے روایت آ رہی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)