سنن النسائي حدیث نمبر: 3929
Sunan an-Nasa'i 3929
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمِّي: " أَنَّهُمْ كَانُوا يُكْرُونَ الْأَرْضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا يَنْبُتُ عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ الزَّرْعِ يَسْتَثْنِي صَاحِبُ الْأَرْضِ , فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ". فَقُلْتُ لِرَافِعٍ: فَكَيْفَ كِرَاؤُهَا بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ: لَيْسَ بِهَا بَأْسٌ بِالدِّينَارِ , وَالدِّرْهَمِ. خَالَفَهُ الْأَوْزَاعِيُّ.
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے چچا نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس کے بدلے زمین کو بٹائی پر دیتے تھے جو پانی کی کیاریوں پر پیدا ہوتا تھا اور تھوڑی سی اس پیداوار کے بدلے جو زمین کا مالک مستثنی ( الگ ) کر لیتا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا ۔ میں نے رافع رضی اللہ عنہ سے کہا : تو دینار اور درہم سے کرائے پر دینا کیسا تھا ؟ رافع رضی اللہ عنہ نے کہا : دینار اور درہم کے بدلے دینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اوزاعی نے لیث کی مخالفت کی ہے ، ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے جس میں ” چچا “ کا ذکر نہیں ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3929]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3926 (صحیح)