سنن النسائي حدیث نمبر: 3914
Sunan an-Nasa'i 3914
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
2: بَابُ : ذِكْرِ الأَحَادِيثِ الْمُخْتَلِفَةِ فِي النَّهْىِ عَنْ كِرَاءِ الأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَاخْتِلاَفِ أَلْفَاظِ النَّاقِلِينَ لِلْخَبَرِ
باب: زمین کو تہائی یا چوتھائی پر بٹائی دینے کی ممانعت کے سلسلے کی مختلف احادیث اور ان کے رواۃ کے الفاظ کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُخَاضَرَةِ، وَقَالَ: " الْمُخَاضَرَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ قَبْلَ أَنْ يَزْهُوَ، وَالْمُخَابَرَةُ: بَيْعُ الْكَرْمِ بِكَذَا وَكَذَا صَاعٍ". خَالَفَهُ عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، فَقَالَ: عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ اور مخاضرہ سے منع فرمایا ہے ۔ اور کہا مخاضرہ : پھل کو پکنے سے پہلے بیچنا اور مخابرہ ( درخت کی ) انگور کو خشک انگور کے اتنے اتنے صاع کے بدلے بیچنا ہے ۔ اس میں عمرو بن ابی سلمہ نے یحییٰ کی مخالفت کی ہے ، انہوں نے اسے اپنے باپ ابوسلمہ سے ، اور ابوسلمہ نے ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے روایت کیا ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3914]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 3164) (صحیح)