سنن النسائي حدیث نمبر: 3907
Sunan an-Nasa'i 3907
کتاب #41: کتاب: مزارعت (بٹائی پر زمین دینے) کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمْزَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ لِأُنَاسٍ فُضُولُ أَرَضِينَ يُكْرُونَهَا بِالنِّصْفِ وَالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا , أَوْ يُزْرِعْهَا , أَوْ يُمْسِكْهَا". وَافَقَهُ مَطَرُ بْنُ طَهْمَانَ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ بعض لوگوں کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں جنہیں وہ آدھا ، تہائی اور چوتھائی پر اٹھاتے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کی کوئی زمین ہو تو اس میں کھیتی کرے یا اس میں ( بلا کرایہ لیے ) کھیتی کرائے یا بلا کھیتی کرائے روکے رکھے “ ۔ مطر بن طہمان نے اوزاعی کی موافقت ( متابعت ) کی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3907]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحرث 18 (2340)، الہبة 35 (2632)، صحیح مسلم/البیوع 17 (1536)، سنن ابن ماجہ/الرہون 7 (2451)، (تحفة الأشراف: 2424)، مسند احمد (3/355) (صحیح)