سنن النسائي حدیث نمبر: 3885
Sunan an-Nasa'i 3885
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
43: بَابُ : الاِسْتِثْنَاءِ
باب: قسم میں استثنا یعنی ”ان شاءاللہ“ کہنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ، فَقَالَ: " مَا شَأْنُ هَذَا؟". فَقِيلَ: نَذَرَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى الْكَعْبَةِ. فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ لَا يَصْنَعُ بِتَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ شَيْئًا"، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ایسے شخص کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے دو بیٹوں کے درمیان ان کے کندھوں کا سہارا لیے چل رہا تھا ، آپ نے فرمایا : ” اس کا کیا معاملہ ہے ؟ “ عرض کیا گیا : اس نے کعبہ پیدل جانے کی نذر مانی ہے ، آپ نے فرمایا : ” اس طرح اپنے آپ کو تکلیف دینے سے اللہ تعالیٰ اس کو کوئی ثواب نہیں دے گا ، پھر آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3885]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 799) (صحیح)