سنن النسائي حدیث نمبر: 3851
Sunan an-Nasa'i 3851
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
36: بَابُ : إِذَا نَذَرَ ثُمَّ أَسْلَمَ قَبْلَ أَنْ يَفِيَ
باب: آدمی نذر مانے اور اسے پوری کرنے سے پہلے اسلام قبول کر لے تو اس کی نذر کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ عَلَيْهِ لَيْلَةٌ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ يَعْتَكِفُهَا , فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ.
عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جاہلیت میں ایک رات کی نذر مانی تھی کہ وہ اس میں اعتکاف کریں گے ، تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو ” آپ نے انہیں اعتکاف کرنے کا حکم دیا “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3851]
💡 وضاحت:
۱؎: چونکہ یہ نذر ایک جائز چیز میں تھی اس لیے آپ نے اسے پوری کرنے کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الاعتکاف 5 (2032)، 15 (2042)، 16(2043)، الأیمان 29 (6697)، صحیح مسلم/الأیمان 6 (1656)، سنن ابی داود/الصوم 80 (2474)، الأیمان32(3325)، سنن الترمذی/الأیمان 11 (1539)، سنن ابن ماجہ/الصیام 60 (1772)، الکفارات 18 (2129)، (تحفة الأشراف: 10550)، مسند احمد (1/687)، مسند احمد (1/37 و2/20، 82، 153)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 1 (2378) (صحیح)