سنن النسائي حدیث نمبر: 3835
Sunan an-Nasa'i 3835
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
25: بَابُ : النَّذْرِ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا وَلاَ يُؤَخِّرُهُ
باب: نذر کسی (مقدر) چیز کو آگے اور پیچھے نہیں کرتی ہے۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ , عَنِ الْأَعْرَجِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَأْتِي النَّذْرُ عَلَى ابْنِ آدَمَ شَيْئًا لَمْ أُقَدِّرْهُ عَلَيْهِ , وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ اسْتُخْرِجَ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ) نذر ابن آدم کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں لا سکتی جسے میں نے اس کے لیے مقدر نہ کیا ہو ، البتہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3835]
💡 وضاحت:
۱؎: یہ حدیث قدسی ہے اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صراحۃً اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا ہے، لیکن سیاق سے بالکل واضح ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأیمان 26 (6692)، صحیح مسلم/ال نذر (1640)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3288)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 15(2123)، مسند احمد 2/242) (صحیح)