سنن النسائي حدیث نمبر: 3832
Sunan an-Nasa'i 3832
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
24: بَابُ : النَّهْىِ عَنِ النَّذْرِ
باب: نذر کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ , عَنْ شُعْبَةَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ النَّذْرِ , وَقَالَ: " إِنَّهُ لَا يَأْتِي بِخَيْرٍ , إِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِهِ مِنَ الْبَخِيلِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ( ماننے ) سے منع کیا اور فرمایا : ” اس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی ، البتہ اس سے بخیل سے ( کچھ مال ) نکال لیا جاتا ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3832]
💡 وضاحت:
۱؎: حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نذر ماننے والے کو اس کی نذر سے کچھ بھی نفع یا نقصان نہیں پہنچتا کیونکہ نذر ماننے والے کے حق میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو فیصلہ ہو چکا ہے اس میں اس کی نذر سے ذرہ برابر تبدیلی نہیں آ سکتی، اس لیے یہ سوچ کر نذر نہ مانی جائے کہ اس سے مقدر میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/القدر 6 (6608)، الأیمان 26 (6693)، صحیح مسلم/ال نذر 2 (1639)، سنن ابی داود/الأیمان 21 (3287)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 15 (2122)، (تحفة الأشراف: 7287)، مسند احمد (2/61، 86، 118)، سنن الدارمی/النذور والأیمان 5 (2385)، ویأتي فیما یلي: 3833، 3834 (صحیح)