سنن النسائي حدیث نمبر: 3829
Sunan an-Nasa'i 3829
کتاب #40: ابواب: قسم اور نذر کے احکام و مسائل
22: بَابُ : فِي الْحَلِفِ وَالْكَذِبِ لِمَنْ لَمْ يَعْتَقِدِ الْيَمِينَ بِقَلْبِهِ
باب: دل سے نہیں بلکہ زبان سے جھوٹی قسم کھانے والے کے حکم کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , وَعَاصِمٌ , وَجَامِعٌ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ , قَالَ: كُنَّا نَبِيعُ بِالْبَقِيعِ , فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَكُنَّا نُسَمَّى السَّمَاسِرَةَ , فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ التُّجَّارِ" , فَسَمَّانَا بِاسْمٍ هُوَ خَيْرٌ مِنِ اسْمِنَا , ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ هَذَا الْبَيْعَ يَحْضُرُهُ الْحَلِفُ , وَالْكَذِبُ , فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ".
قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ بقیع میں خرید و فروخت کرتے تھے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ، ہم لوگوں کو «سماسرہ» ( دلال ) کہا جاتا تھا ، تو آپ نے فرمایا : ” اے تاجروں کی جماعت ! “ آپ نے ہمیں ایک ایسا نام دیا جو ہمارے نام سے بہتر تھا ، پھر فرمایا : ” خرید و فروخت میں ( بغیر قصد و ارادے کے ) قسم اور جھوٹ کی باتیں شامل ہو جاتی ہیں تو اس میں صدقہ ملا لیا کرو “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3829]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر ما قبلہ (صحیح)