سنن النسائي حدیث نمبر: 382
Sunan an-Nasa'i 382
کتاب #6: کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل
17: بَابُ : سُقُوطِ الصَّلاَةِ عَنِ الْحَائِضِ
باب: حائضہ سے نماز ساقط ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، قال: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ، قالت: سَأَلَتِ امْرَأَةٌ عَائِشَةَ: أَتَقْضِي الْحَائِضُ الصَّلَاةَ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ" كُنَّا نَحِيضُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا نَقْضِي وَلَا نُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ".
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا : کیا حائضہ اپنی نماز قضاء کرے گی ؟ تو انہوں نے کہا : کیا تو حروریہ ۱؎ ( خارجیہ ) ہے ؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حائضہ ہوتی تھیں ، تو نہ ہم قضاء کرتے اور نہ ہمیں قضاء کا حکم دیا جاتا تھا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 382]
💡 وضاحت:
۱؎: خوارج کا ایک گروہ ہے جو کوفہ کے قریب ایک جگہ حروراء کی طرف منسوب ہے، یہ لوگ حیض کے مسئلہ میں متشدد تھے، ان کا کہنا تھا کہ حائضہ روزے کی طرح نماز کی بھی قضاء کرے گی، اسی وجہ سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کو ان لوگوں سے تشبیہ دی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الحیض20 (321)، صحیح مسلم/فیہ 15 (335)، سنن ابی داود/الطھارة 105 (262)، سنن الترمذی/فیہ 97 (130)، سنن ابن ماجہ/فیہ 119 (631)، (تحفة الأشراف 17964)، مسند احمد 6/32، 94، 97، 120، 143، 185، 231، /الطھارة 102، 1020، 1021، 1028 ویأتي عند المؤلف في الصوم 36 (برقم 2320) (صحیح)