سنن النسائي حدیث نمبر: 3677
Sunan an-Nasa'i 3677
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
6: بَابُ : إِذَا أَوْصَى لِعَشِيرَتِهِ الأَقْرَبِينَ
باب: اپنے قریبی خاندان والوں کے لیے وصیت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أن أبا هريرة , قَالَ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَ عَلَيْهِ: وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ سورة الشعراء آية 214، فَقَالَ: " يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اشْتَرُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ اللَّهِ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، لَا أُغْنِي عَنْكُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا عَبَّاسُ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، لَا أُغْنِي عَنْكَ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا صَفِيَّةُ عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، يَا فَاطِمَةُ، سَلِينِي مَا شِئْتِ، لَا أُغْنِي عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا".
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ : «وأنذر عشيرتك الأقربين» ” اے محمد ! اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا : ” اے قریش کے لوگو ! اپنی جانوں کو اللہ سے ( اس کی اطاعت کے بدلے ) خرید لو ، میں تمہیں اللہ کی پکڑ سے نہیں بچا سکتا ، اے بنی عبد مناف ! میں اللہ کے یہاں تمہارے کچھ بھی کام نہ آ سکوں گا ، اے عباس بن عبدالمطلب ! اللہ کے یہاں میں تمہارے بھی کچھ کام نہ آ سکوں گا ، اے صفیہ ! ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی ) ، میں اللہ کے یہاں تمہیں بھی کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا ، اے فاطمہ ! تمہیں جو کچھ بھی مانگنا ہے مجھ سے مانگو ، لیکن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی فائدہ پہنچا نہ سکوں گا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3677]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الوصایا 11 (2753)، تفسیر سورة الشعر 2 (4771)، (تحفة الأشراف: 13156)، سنن الدارمی/الرقاق 37 (2792) (صحیح)