سنن النسائي حدیث نمبر: 3671
Sunan an-Nasa'i 3671
کتاب #35: کتاب: وصیت کے احکام و مسائل
5: بَابُ : إِبْطَالِ الْوَصِيَّةِ لِلْوَارِثِ
باب: وارث کے لیے وصیت باطل ہے۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غُنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ".
عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا تو فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے ہر حق والے کو اس کا حق دے دیا ہے ( تو تم سمجھ لو ) وارث کے لیے وصیت نہیں ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3671]
💡 وضاحت:
۱؎: کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اس کا حق دے دیا ہے، اور اس کے حصے متعین کر دیے ہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
سنن الترمذی/الوصایا 5 (2121) مطولا، سنن ابن ماجہ/الوصایا 6 (2712) مطولا، (تحفة الأشراف: 10731)، مسند احمد (4/186، 187، 238، 239)، سنن الدارمی/الوصیة 28 (3303) (صحیح)