سنن النسائي حدیث نمبر: 3618
Sunan an-Nasa'i 3618
کتاب #33: کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
14: بَابُ : السَّبَقِ
باب: مسابقت (آگے بڑھنے کے مقابلے) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةٌ تُسَمَّى الْعَضْبَاءَ، لَا تُسْبَقُ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ، فَسَبَقَهَا فَشَقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَلَمَّا رَأَى مَا فِي وُجُوهِهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سُبِقَتِ الْعَضْبَاءُ، قَالَ: " إِنَّ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يَرْتَفِعَ مِنَ الدُّنْيَا شَيْءٌ إِلَّا وَضَعَهُ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عضباء نامی ایک اونٹنی تھی وہ ہارتی نہ تھی ، اتفاقاً ایک اعرابی ( دیہاتی ) اپنے جوان اونٹ پر آیا اور وہ مقابلے میں عضباء سے بازی لے گیا ، یہ بات ( ہار ) مسلمانوں کو بڑی ناگوار گزری ۔ جب آپ نے لوگوں کے چہروں کی ناگواری و رنجیدگی دیکھی تو لوگ خود بول پڑے : اللہ کے رسول ! عضباء شکست کھا گئی ( اور ہمیں اس کا رنج ہے ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ تو اللہ کے حق ( و اختیار ) کی بات ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بہت بلند ہو جاتی اور بڑھ جاتی ہے تو اللہ اسے پست کر دیتا اور نیچے گرا دیتا ہے “ ( اس لیے کبیدہ خاطر ہونا ٹھیک نہیں ہے ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3618]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 641)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجہاد 59 (2871)، الرقاق 38 (6501)، سنن ابی داود/الأدب 9 (4802) (صحیح)