📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل (كتاب الخيل) 🏷️ باب: باب: گھوڑے کو سدھانے و سکھانے کا بیان۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3608 Sunan an-Nasa'i 3608
کتاب #33: کتاب: گھوڑوں سے متعلق احکام و مسائل
8: بَابُ : تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ
باب: گھوڑے کو سدھانے و سکھانے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَّامٍ الدِّمَشْقِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ الْجُهَنِيِّ، قَالَ: كَانَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ يَمُرُّ بِي، فَيَقُولُ: يَا خَالِدُ، اخْرُجْ بِنَا نَرْمِي، فَلَمَّا كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ أَبْطَأْتُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا خَالِدُ، تَعَالَ أُخْبِرْكَ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ، يَحْتَسِبُ فِي صُنْعِهِ الْخَيْرَ وَالرَّامِيَ بِهِ وَمُنَبِّلَهُ، وَارْمُوا وَارْكَبُوا، وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا". (حديث مرفوع) (حديث موقوف)" وَلَيْسَ اللَّهْوُ إِلَّا فِي ثَلَاثَةٍ: تَأْدِيبِ الرَّجُلِ فَرَسَهُ، وَمُلَاعَبَتِهِ امْرَأَتَهُ، وَرَمْيِهِ بِقَوْسِهِ وَنَبْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ الرَّمْيَ بَعْدَ مَا عَلِمَهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهَا نِعْمَةٌ كَفَرَهَا أَوْ قَالَ كَفَرَ بِهَا".
خالد بن یزید جہنی کہتے ہیں کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ہمارے قریب سے گزرا کرتے تھے ، کہتے تھے : اے خالد ! ہمارے ساتھ آؤ ، چل کر تیر اندازی کرتے ہیں ، پھر ایک دن ایسا ہوا کہ میں سستی سے ان کے ساتھ نکلنے میں دیر کر دی تو انہوں نے آواز لگائی : خالد ! میرے پاس آؤ ۔ میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمائی ہوئی ایک بات بتاتا ہوں ، چنانچہ میں ان کے پاس گیا ۔ تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے : ” اللہ تعالیٰ ایک تیر کے ذریعے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا : ( ایک ) بھلائی حاصل کرنے کے ارادہ سے تیر بنانے والا ، ( دوسرا ) تیر چلانے والا ، ( تیسرا ) تیر پکڑنے والا ، اٹھا اٹھا کر دینے والا ، ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تیر اندازی کرو ، گھوڑ سواری کرو اور تمہاری تیر اندازی مجھے تمہاری گھوڑ سواری سے زیادہ محبوب ہے ۔ ( مباح و مندوب ) لہو و لذت یابی ، تفریح و مزہ تو صرف تین چیزوں میں ہے : ( ایک ) اپنے گھوڑے کو میدان میں کار آمد بنانے کے لیے سدھانے میں ، ( دوسرے ) اپنی بیوی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ، کھیل کود میں اور ( تیسرے ) اپنی کمان و تیر سے تیر اندازی کرنے میں اور جو شخص تیر اندازی جاننے ( و سیکھنے ) کے بعد اس سے نفرت و بیزاری کے باعث اسے چھوڑ دے تو اس نے ایک نعمت کی ( جو اسے حاصل تھی ) ناشکری ( و ناقدری ) کی ۔ راوی کو شبہ ہو گیا ہے کہ آپ نے اس موقع پر «کفرہا» کہا یا «کفر بہا» کہا ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3608]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 3148 (ضعیف) (لکن فقرة ’’اللہوة‘‘ ثابت فی حدیث آخر بنحوہ)
سنن النسائي • حدیث #3608
3606 3607 3608 3609 3610
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ