سنن النسائي حدیث نمبر: 3558
Sunan an-Nasa'i 3558
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
60: بَابُ : مَقَامِ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا فِي بَيْتِهَا حَتَّى تَحِلَّ
باب: جس کا شوہر مر جائے وہ حلال ہونے تک اپنے گھر ہی میں عدت گزارے۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، ويحيى بن سعيد، ومحمد بن إسحاق , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ كَعْبٍ، عَنْ الْفَارِعَةِ بِنْتِ مَالِكٍ، أَنَّ زَوْجَهَا خَرَجَ فِي طَلَبِ أَعْلَاجٍ فَقَتَلُوهُ، قَالَ شُعْبَةُ , وَابْنُ جُرَيْجٍ وكانت في دار قاصية فجاءت ومعها أخوها إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرُوا لَهُ، فَرَخَّصَ لَهَا حَتَّى إِذَا رَجَعَتْ دَعَاهَا، فَقَالَ: " اجْلِسِي فِي بَيْتِكِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَابُ أَجَلَهُ".
فارعہ بنت مالک رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر ( بھاگے ہوئے ) غلاموں کی تلاش میں نکلے ( جب وہ ان کے سامنے آئے ) تو انہوں نے انہیں قتل کر دیا ۔ ( شعبہ اور ابن جریج کہتے ہیں : اس عورت کا گھر دور ( آبادی کے ایک سرے پر ) تھا ، وہ عورت اپنے ساتھ اپنے بھائی کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے گھر کے الگ تھلگ ہونے کا ذکر کیا ( کہ وہاں گھر والے کے بغیر عورت کا تنہا رہنا ٹھیک نہیں ہے ) آپ نے اسے ( وہاں سے ہٹ کر رہنے کی ) رخصت دے دی ۔ پھر جب وہ ( گھر جانے کے لیے ) لوٹی تو آپ نے اسے بلایا اور فرمایا : ” تم اپنے گھر ہی میں رہو یہاں تک کہ کتاب اللہ ( قرآن ) کی مقرر کردہ عدت کی مدت پوری ہو جائے ۔ “ ( اس کے بعد تم آزاد ہو جہاں چاہو رہو ) ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3558]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق 44 (2300) مطولا، سنن الترمذی/الطلاق 23 (1204)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 8 (2031)، (تحفة الأشراف: 18045)، موطا امام مالک/الطلاق31، مسند احمد (6/370، 420)، سنن الدارمی/الطلاق 14 (2333)، ویأتي فیما یلي و برقم: 3562 (صحیح)