سنن النسائي حدیث نمبر: 3502
Sunan an-Nasa'i 3502
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
40: بَابُ : الأَمْرِ بِوَضْعِ الْيَدِ عَلَى فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ عِنْدَ الْخَامِسَةِ
باب: لعان کرنے والے پانچویں بار جب قسم کھانے چلیں تو ان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر انہیں روکنے کی کوشش کرنے کا حکم۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَرَ رَجُلًا حِينَ أَمَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يَتَلَاعَنَا: أَنْ يَضَعَ يَدَهُ عِنْدَ الْخَامِسَةِ عَلَى فِيهِ، وَقَالَ: إِنَّهَا مُوجِبَةٌ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دو لعان کرنے والوں کو لعان کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص کو ( یہ بھی ) حکم دیا کہ جب پانچویں قسم کھانے کا وقت آئے تو لعان کرنے والے کے منہ پر ہاتھ رکھ دے ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ قسم اللہ کی لعنت و غضب کو لازم کر دے گی “ ۲؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3502]
💡 وضاحت:
۱؎: تاکہ وہ ایک بار پھر سوچ لے کہ وہ کتنی بڑی اور بھیانک قسم کھانے جا رہا ہے۔ ۲؎: یعنی جھوٹے ہوں گے تو اللہ کی لعنت و غضب کے سزاوار ہونے سے بچ نہ سکیں گے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطلاق27 (2255)، (تحفة الأشراف: 6372) (صحیح)