📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل (كتاب الحيض والاستحاضة) 🏷️ باب: باب: حیض کی شروعات کا بیان اور کیا حیض کو نفاس کہہ سکتے ہیں؟
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 349 Sunan an-Nasa'i 349
کتاب #6: کتاب: حیض اور استحاضہ کے احکام و مسائل
1: بَابُ : بَدْءُ الْحِيضِ وَهَلْ يُسَمَّى الْحِيضُ نِفَاسًا
باب: حیض کی شروعات کا بیان اور کیا حیض کو نفاس کہہ سکتے ہیں؟
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: " مَا لَكِ؟ أَنَفِسْتِ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لَا تَطُوفِي بِالْبَيْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ، ہمارا مقصد صرف حج کرنا تھا ، جب ہم مقام سرف میں پہنچے تو میں حائضہ ہو گئی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور میں رو رہی تھی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : ” کیا بات ہے ؟ کیا تم حائضہ ہو گئی ہو ؟ “ میں نے عرض کیا : جی ہاں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آدم زادیوں پر مقدر کر دیا ہے ۱؎ ، اب تم وہ سارے کام کرو ، جو حاجی کرتا ہے ، البتہ خانہ کعبہ کا طواف نہ کرنا “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 349]
💡 وضاحت:
۱؎: آدم زادیوں میں حواء بھی داخل ہیں اس لیے کہ آدم زاویوں سے عورتوں کی نوع مراد ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج دارالدعوہ: انظر حدیث رقم: 291 (صحیح)
سنن النسائي • حدیث #349
347 348 349 350 351
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ