سنن النسائي حدیث نمبر: 3486
Sunan an-Nasa'i 3486
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
32: بَابُ : الإِيلاَءِ
باب: ایلاء یعنی ناراضگی کی بناء پر بیوی سے علیحدہ رہنے کی قسم کھا لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: " آلَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نِسَائِهِ شَهْرًا فِي مَشْرَبَةٍ لَهُ، فَمَكَثَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ نَزَلَ"، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ آلَيْتَ عَلَى شَهْرٍ؟ قَالَ: " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ".
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس ایک مہینے تک نہ جانے کا عہد کیا ( یعنی ایلاء کیا ) اور انتیس ( ۲۹ ) راتیں اپنے بالاخانے پر رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتر آئے ، آپ سے کہا گیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے مہینہ بھر کا ایلاء نہیں کیا تھا ؟ آپ نے فرمایا : ” مہینہ انتیس ( ۲۹ ) دن کا ( بھی ) ہوا کرتا ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3486]
قال الشيخ الألباني:
صحيح الإسناد
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 643)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 18 (378)، المظالم25 (2469)، النکاح 91 (5201)، الطلاق 21 (5289)، الأیمان والنذور 20 (6684)، سنن الترمذی/الصوم 6 (689، 690)، مسند احمد (3/200) (صحیح)