سنن النسائي حدیث نمبر: 3462
Sunan an-Nasa'i 3462
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
21: بَابُ : مَنْ لاَ يَقَعُ طَلاَقُهُ مِنَ الأَزْوَاجِ
باب: کن شوہروں کی طلاق واقع نہیں ہوتی۔
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَكْبُرَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يَعْقِلَ أَوْ يُفِيقَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین طرح کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۱؎ ایک تو سونے والے سے یہاں تک کہ وہ جاگے ۲؎ ، دوسرے نابالغ سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائے ، تیسرے دیوانے سے یہاں تک کہ وہ عقل و ہوش میں آ جائے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3462]
💡 وضاحت:
۱؎: اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ ان حالات میں ان پر گناہ کا حکم نہیں لگتا۔ ۲؎: یعنی سونے کی حالت میں جو کچھ کہہ دے اس کا اعتبار نہ ہو گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (4398) ابن ماجه (2041) إبراهيم النخعي مدلس وعنعن،ولم أجد تصريح سماعه. وانظر سنن أبى داود (4399.4400 بتحقيقي). انوار الصحيفه، صفحه نمبر 347
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الحدود 16 (4398)، سنن ابن ماجہ/الطلاق 15 (2041)، (تحفة الأشراف: 15935)، مسند احمد (6/100، 101، 144)، سنن الدارمی/الحدود 1 (2343) (صحیح)