سنن النسائي حدیث نمبر: 3447
Sunan an-Nasa'i 3447
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
15: بَابُ : إِرْسَالِ الرَّجُلِ إِلَى زَوْجَتِهِ بِالطَّلاَقِ
باب: شوہر دوسرے سے بیوی کو طلاق بھیج دے اس کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي الْجَهْمِ، قَالَ: سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ، تَقُولُ: أَرْسَلَ إِلَيَّ زَوْجِي بِطَلَاقِي، فَشَدَدْتُ عَلَيَّ ثِيَابِي، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَمْ طَلَّقَكِ؟" فَقُلْتُ: ثَلَاثًا، قَالَ: " لَيْسَ لَكِ نَفَقَةٌ، وَاعْتَدِّي فِي بَيْتِ ابْنِ عَمِّكِ، ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، فَإِنَّهُ ضَرِيرُ الْبَصَرِ، تُلْقِينَ ثِيَابَكِ عِنْدَهُ، فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُكِ، فَآذِنِينِي"، مُخْتَصَرٌ.
فاطمہ بنت قیس رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق کہلا بھیجی تو میں اپنے کپڑے اپنے آپ پر لپیٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( نفقہ و سکنی کا مطالبہ لے کر ) پہنچی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دی ہیں ؟ “ میں نے کہا : تین ، آپ نے فرمایا : ” پھر تو تمہیں نفقہ نہیں ملے گا تم اپنی عدت کے دن اپنے چچا کے بیٹے ابن ام مکتوم کے گھر میں پورے کرو کیونکہ وہ نابینا ہیں ، تم ان کے پاس رہ کر بھی اپنے کپڑے اتار سکتی ہو پھر جب تمہاری عدت کے دن پورے ہو جائیں تو مجھے خبر دو “ ، یہ حدیث طویل ہے ، یہاں مختصر بیان ہوئی ہے ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3447]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الطلاق 6 (1480)، سنن الترمذی/النکاح 38 (1135)، سنن ابن ماجہ/الطلاق10 (2035)، (تحفة الأشراف: 18037)، مسند احمد (6/412411، 413، ویأتي برقم: 3581 (صحیح)