📖 سنن النسائي • فہرست کتب (Book Index) ↗

سنن النسائي

Sunan an-Nasa'i (سُنَنُ النَّسَائِيِّ (المجتبى))
📁 کتاب: طلاق کے احکام و مسائل (كتاب الطلاق) 🏷️ باب: باب: اکٹھی تین طلاقیں دینا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
عربی:
اردو:
سنن النسائي حدیث نمبر: 3430 Sunan an-Nasa'i 3430
کتاب #32: کتاب: طلاق کے احکام و مسائل
6: بَابُ : الثَّلاَثِ الْمَجْمُوعَةِ وَمَا فِيهِ مِنَ التَّغْلِيظِ
باب: اکٹھی تین طلاقیں دینا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ مَحْمُودَ بْنَ لَبِيدٍ، قَالَ: " أُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ جَمِيعًا، فَقَامَ غَضْبَانًا، ثُمَّ قَالَ: " أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ"، حَتَّى قَامَ رَجُلٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَقْتُلُهُ؟.
محمود بن لبید رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دی ہیں ، ( یہ سن کر ) آپ غصے سے کھڑے ہو گئے اور فرمانے لگے : ” میرے تمہارے درمیان موجود ہوتے ہوئے بھی تم اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے ساتھ کھلواڑ کرنے لگے ہو ۱؎ “ ، ( آپ کا غصہ دیکھ کر اور آپ کی بات سن کر ) ایک شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیوں نہ میں اسے قتل کر دوں ؟ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3430]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ کا حکم کیا ہے اسے نہیں دیکھتے؟ میں تمہارے درمیان موجود ہوں مجھ سے نہیں پوچھتے اور سمجھتے؟ اللہ کے فرمان کے خلاف عمل کرنے لگے ہو کیا اب یہی ہو گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج دارالدعوہ: تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 11237) (ضعیف) (سند میں مخرمہ کا اپنے والد سے سماع نہیں ہے)
سنن النسائي • حدیث #3430
3428 3429 3430 3431 3432
⌨️ کی بورڈ شارٹ کٹ: ←→ اگلی/پچھلی حدیث  |  / تلاش  |  r بے ترتیب حدیث  |  p پرنٹ