سنن النسائي حدیث نمبر: 3399
Sunan an-Nasa'i 3399
کتاب #31: کتاب: عورتوں کے ساتھ معاشرت (یعنی مل جل کر زندگی گزارنے) کے احکام و مسائل
3: بَابُ : حُبِّ الرَّجُلِ بَعْضَ نِسَائِهِ أَكْثَرَ مِنْ بَعْضٍ
باب: ایک کے مقابلے دوسری بیوی سے زیادہ محبت ہونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُرَّةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ، كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عورتوں پر عائشہ کی فضیلت ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی تمام کھانوں پر “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3399]
💡 وضاحت:
۱؎: ثرید: عربوں کا سب سے اعلیٰ درجے کا کھانا ہے یہ گوشت کا ہوتا ہے، اس میں لذت اور ذائقہ بھی ہے اور قوت و غذائیت بھی۔ کھانے میں بہت آسان ہوتا ہے اور اسے چبانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔ یہ خوبصورتی بڑھانے اور آواز میں حسن پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
متفق عليه
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/الأنبیاء 32 (3411) مطولا، 46 (3433) مطولا، فضائل الصحابة 30 (3769) مطولا، الأطعمة 25 (5418)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 13 (2431)، سنن الترمذی/الأطعمة 31 (1834) مطولا، سنن ابن ماجہ/الأطعمة 14 (3280)، (تحفة الأشراف: 9029)، مسند احمد (4/394، 309) (صحیح)