سنن النسائي حدیث نمبر: 338
Sunan an-Nasa'i 338
کتاب #5: کتاب: پانی کے احکام و مسائل
7: بَابُ : تَعْفِيرِ الإِنَاءِ بِالتُّرَابِ مِنْ وُلُوغِ الْكَلْبِ فِيهِ
باب: کتا کے منہ ڈالنے سے برتن کو مٹی سے مانجھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، قال: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قال: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْدٍ، قال: سَمِعْتُ مُطَرِّفًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قال: " أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ، قَالَ: مَا بَالُهُمْ وَبَالُ الْكِلَابِ؟ قَالَ: وَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَكَلْبِ الْغَنَمِ". وَقَالَ: " إِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ، فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ وَعَفِّرُوا الثَّامِنَةَ بِالتُّرَابِ". خَالَفَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: إِحْدَاهُنَّ بِالتُّرَابِ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کو کتوں سے کیا سروکار ؟ “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتوں اور بکریوں کی رکھوالی کرنے والے کتوں کی اجازت دی ، اور فرمایا : ” جب کتا برتن میں منہ ڈال دے تو اسے سات دفعہ دھو لو ، آٹھویں دفعہ مٹی سے مانجھو “ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مغفل کی مخالفت کی ہے اور ( اپنی روایت میں ) یوں کہا ہے : ان میں سے ایک بار مٹی سے مانجھو ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 338]
💡 وضاحت:
۱؎: اس سے پہلے ایک روایت میں «عفروه الثامنة» اور دوسری روایت میں «إحداهن بالتراب» کے الفاظ آئے ہیں، ان تینوں روایتوں میں بظاہر تعارض ہے، ان میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ «إحداهن» والی مبہم روایت «أولاهن» والی معین روایت پر محمول کی جائے گی، اب سات اور آٹھ کی عدد میں جو اختلاف باقی رہ گیا ہے تو سات کو وجوب، اور آٹھ کو ندب اور احتیاط پر محمول کیا جائے گا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 67 (صحیح)