سنن النسائي حدیث نمبر: 3330
Sunan an-Nasa'i 3330
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
55: بَابُ : الْعَزْلِ
باب: (جماع کے دوران) شرمگاہ سے باہر منی کے اخراج کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي الْفَيْضِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُرَّةَ الزُّرَقِيَّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الزُّرَقِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي تُرْضِعُ وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ تَحْمِلَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مَا قَدْ قُدِّرَ فِي الرَّحِمِ سَيَكُونُ".
ابوسعید زرقی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل کے بارے میں پوچھا ، اس نے کہا : میری بیوی دودھ پلاتی ہے ، اور میں ناپسند کرتا ہوں کہ وہ حاملہ ہو تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” رحم میں جس کا آنا مقدر ہو چکا ہے وہ ہو کر رہے گا ۱؎ “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3330]
💡 وضاحت:
۱؎: چاہے تم عزل کرو یا نہ کرو اس لیے عزل کر کے بے مزہ ہونا اچھا نہیں۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
إسناده حسن
تخریج دارالدعوہ:
تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 12045)، مسند احمد (3/450) (صحیح)