سنن النسائي حدیث نمبر: 3306
Sunan an-Nasa'i 3306
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
50: بَابُ : تَحْرِيمِ بِنْتِ الأَخِ مِنَ الرَّضَاعَةِ
باب: رضاعی بھائی کی بیٹی (سے شادی) کی حرمت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ تَنَوَّقُ فِي قُرَيْشٍ وَتَدَعُنَا، قَالَ: " وَعِنْدَكَ أَحَدٌ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، بِنْتُ حَمْزَةَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي، إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ".
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا بات ہے آپ کی مہربانیاں و دلچسپیاں قریش میں بڑھ رہی ہیں اور ( ہم جو آپ کے خاص الخاص ہیں ) آپ ہمیں چھوڑ رہے ( اور نظر انداز فرما رہے ) ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا تمہارے پاس کوئی ( شادی کے لائق ) ہے ؟ “ میں نے کہا : ہاں ! حمزہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” وہ تو میرے لیے حلال نہیں ہے ، کیونکہ وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3306]
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/الرضاع 3 (1446)، (تحفة الأشراف: 10171)، مسند احمد (1/82، 114، 126، 132، 158) (صحیح)