سنن النسائي حدیث نمبر: 3263
Sunan an-Nasa'i 3263
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
31: بَابُ : اسْتِئْذَانِ الْبِكْرِ فِي نَفْسِهَا
باب: کنواری لڑکی کی شادی کے لیے اس سے اجازت لینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ بَعْدَ مَوْتِ نَافِعٍ بِسَنَةٍ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ حَلْقَةٌ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْأَيِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا، وَالْيَتِيمَةُ تُسْتَأْمَرُ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیوہ اپنے ولی ( سر پرست ) کے بالمقابل اپنے ( رشتہ کے ) بارے میں فیصلہ کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے ۔ اور «یتیمہ» یعنی کنواری لڑکی سے ( اس کی شادی کے لیے ) اس کی منظوری لی جائے گی اور اس کی منظوری ( پوچھے جانے پر ) اس کی خاموشی ہے “ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3263]
قال الشيخ الألباني:
صحيح م وهو أصح من اللفظ الأول تستأذن
قال الشيخ زبیر علی زئی:
حسن
تخریج دارالدعوہ:
انظر حدیث رقم: 3262 (صحیح)