سنن النسائي حدیث نمبر: 326
Sunan an-Nasa'i 326
کتاب #5: کتاب: پانی کے احکام و مسائل
1: بَابُ : ذِكْرِ بِئْرِ بُضَاعَةَ
باب: بئر بضاعہ کا بیان۔
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ بَعْضَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْتَسَلَتْ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَتَوَضَّأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفَضْلِهَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: " إِنَّ الْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی نے غسل جنابت کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بچے ہوئے پانی سے وضو کیا ، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی ہے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 326]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی جو پانی جنبی یا محدث کے استعمال سے بچ جائے، وہ استعمال کرنے والے کی جنابت یا حدث کی وجہ سے نجس نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (68) ترمذي (65) ابن ماجه (370) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 322
تخریج دارالدعوہ:
سنن ابی داود/الطھارة 35 (68)، سنن الترمذی/فیہ 48 (65)، سنن ابن ماجہ/فیہ 33 (370)، (تحفة الأشراف 6103)، مسند احمد 1/235، 284، 308، 337، سنن الدارمی/الطہارة 57(761، 762) (صحیح)