سنن النسائي حدیث نمبر: 3251
Sunan an-Nasa'i 3251
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَطَّارُ أَبُو عَبْدِ الصَّمَدِ، قَالَ: سَمِعْتُ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ، يَقُولُ: كُنْتُ عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ، فَقَالَ: " جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَكَ فِيَّ حَاجَةٌ؟".
ثابت بنانی کہتے ہیں کہ میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھا ، وہاں ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی ، انس رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر دیا ، اور کہا : اللہ کے رسول ! کیا آپ کو میری ضرورت ہے ؟ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3251]
💡 وضاحت:
۱؎: یعنی اگر آپ مجھے نکاح کے لیے قبول فرمائیں تو میں اسے اپنی خوش نصیبی سمجھوں گی۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح بخاري
تخریج دارالدعوہ:
صحیح البخاری/النکاح 32 (5120) مطولا، والأدب 79 (6123) مطولا، سنن ابن ماجہ/النکاح 57 (2001) (تحفة الأشراف: 468) (صحیح)