سنن النسائي حدیث نمبر: 3240
Sunan an-Nasa'i 3240
کتاب #30: کتاب: نکاح (شادی بیاہ) کے احکام و مسائل
20: بَابُ : النَّهْىِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ
باب: اپنے (کسی دینی) بھائی کے پیام پر پیام دینے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَخْطُبُ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ".
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کوئی کسی دوسرے کے پیغام پر پیغام نہ دے “ ۱؎ ۔ [سنن نسائي/حدیث: 3240]
💡 وضاحت:
۱؎: اگر پیغام پر پیغام دینے والے کو پہلے پیغام سے متعلق علم ہے تو اس کا یہ پیغام دینا کسی صورت میں درست نہیں ہو گا، البتہ لاعلمی کی صورت میں معذور سمجھا جائے گا، چونکہ پیغام پر پیغام دینے سے مسلمانوں میں باہمی دشمنی اور عداوت پھیلے گی، اور اسلامی معاشرہ کو اسلام، ان عیوب سے صاف ستھرا رکھنا چاہتا ہے، اسی لیے پیغام پر پیغام دینا اسلام کی نظر میں حرام ٹھہرا تاکہ بغض و عداوت سے اسلامی معاشرہ پاک و صاف رہے۔
قال الشيخ الألباني:
صحيح
قال الشيخ زبیر علی زئی:
صحيح مسلم
تخریج دارالدعوہ:
صحیح مسلم/النکاح 6 (1412)، سنن الترمذی/البیوع 57 (1292)، (تحفة الأشراف: 8284)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/النکاح 45 (5142)، سنن ابی داود/النکاح 18 (2081)، سنن ابن ماجہ/النکاح 10 (1867)، موطا امام مالک/النکاح 1 (2)، مسند احمد 2/124)، سنن الدارمی/النکاح 7 (2222) ویأتي برقم: 3245 (صحیح)